The women of Sindh

By Bina Shah

SHAH Abdul Latif Bhitai, the famous Sufi poet of Sindh, is known to every Sindhi and nearly every Pakistani as the author of the Risalo, that magnificent collection of epic poetry encompassing the folk tales of Sindh. With the magic of an alchemist, he elevates the simple stories into beautiful parables of the Sufi’s yearning to put an end to the separation between himself and God.
Shah Abdul Latif uses the metaphor of the love between a man and a woman to make a timeless statement about the relationship between man and God — that death is the end of that separation, and should be looked forward to with longing, the way lovers look forward to being reunited after a long period of being kept apart by circumstances, fate and the cruel designs of other men.
In my research for an upcoming project, I learned that the women of Shah Abdul Latif’s poetry are known as the Seven Queens, heroines of Sindhi folklore who have been given the status of royalty in the Risalo. The Seven Queens were celebrated throughout Sindh for their positive qualities: their honesty, integrity, piety and loyalty. They were also valued for their bravery and their willingness to risk their lives in the name of love.
Perhaps what Shah Abdul Latif Bhitai saw in his tales of these women was an idealised view of womanhood, but the truth remains that the Seven Queens inspired women all over Sindh to have the courage to choose love and freedom over tyranny and oppression. The lines from the Risalo describing their trials are sung at Sufi shrines all over Sindh, and especially at the urs of Shah Abdul Latif every year at Bhit Shah; in these difficult days, people need to remember their heroes and heroines more than ever.

Ironically, in Sindh today we see women acting with the same courage and integrity as Shah Abdul Latif’s Seven Queens but they suffer untold punishment for choosing to live their lives in this manner. If a woman chooses to marry of her own free will, her family may disown her, threaten her and her husband, have her kidnapped, and even murder her for daring to go against the wishes of the family.

It remains puzzling that while we celebrate the actions of Marvi, Sassi, Momal, Leela, Sohni and the other women of the Risalo, the real women of Sindh are made to pay the ultimate price for the same actions. We hold in high esteem fictional women and pay lip service to their tales of tragic romance but we enact upon our own sisters and daughters a worse kind of tragedy, all in the name of an honour that is in actual fact a euphemism for the most despicable kind of male chauvinism I have ever seen.

But the women of Sindh are strong and resilient. And they have discovered that while they may not be encouraged to follow their dreams of love and happiness, their true strength lies in a different direction: education. The women that we recognise in Sindh today are those who have made huge strides in the world of academics, and serve as role models to all the Sindhi girls who want to take control of their own destiny.

Benazir Bhutto, a graduate of Harvard and Oxford universities, is the name at the top of the list but there are others who we can find as examples. Mehtab Rashdi, Hamida Khuhro and Anita Ghulam Ali are some of the most educated Sindhi women in Pakistan today, and with their years of hard work and dedication each has made an invaluable contribution to the cause of the liberation of Sindhi women everywhere.

Even at a more basic level, any time a Sindhi girl makes it to school, college or university anywhere is a cause for celebration. The success of a marriage in our society is something vastly dependent on the wills of many people but education is the one thing that a woman can take with her no matter where she goes.

There is a new wave of Sindhi women emerging that we have also reason to celebrate: those who have entered the field of politics. Conservative as most Sindhi families are, the February 2008 elections saw women from Sindhi families being elected to the provincial legislature, a sea change that will inspire a whole generation of Sindhi girls to take a more active role in the political system of this country. I would like to share with you a quote from a letter I received from one of my male readers:

“I see some hope in women legislators in the Sindh Assembly — like Sassi Palejo, Shazia Marri, and Humera Alwani. I am praying for their success … If Sindhi men are busy waxing their moustaches, the Sindhi women legislators are there to take up the mantle. Listen to them, they will provide the way forward.”

This letter struck me with its insight and its hopes for the future; and most of all for the gentleman’s willingness to lay his trust and faith in women. It’s been three hundred years since Shah Abdul Latif of Bhit wrote his Risalo but it looks like we’re still trapped in our old ways, still singing praises for the Seven Queens while clamping down on the hopes and dreams of our sisters and daughters.

But for those of you who look forward to the day when things will get better for the women of Sindh, look around you, I say: the Seven Queens, in their modern incarnations, are already here.

The writer is a novelist.

 _________________________________________________________________________________

 

‘ عوام کی شہید ملکہ’

 
 
ساری دنیا کےے اخبارات میں بینظیر بھٹو کی خبر شائع ہوئی ہے
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!

وہ چھوٹی سی بچي جس نے المرتضی لاڑکانہ میں اپنے باپ کے ہاتھوں بندوق سے فائر کرکے درخت پر سے ایک طوطے کو مارنے پر دو دن تک کھانا نہیں کھایا تھا وہ قتل ہوگئی۔ قاتلوں اور جرنیلوں، کرنیلوں کی سرزمین پر ایک نہتی اور واقعی بندوقوں سے نفرت کرتی لڑکی قتل ہوئی۔

’پنکی، بے بی، سر، بی بی، محترمہ، وزیر اعظم، بینظیر آخرکار اس خدشے کے سچ ہونے کا نشانہ بنی جس کا اظہار وہ اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک کرتی رہی تھی یعنی کہ مشرف حکومت کی مجرمانہ غفلت اس کے شریک جرم ہوکر اپنے قتل ہوجانے کا وہی خدشے جن کا اظہار (مبینہ طور پر) ان کے شوہر آصف علی زرداری اور پارٹی ساتھی ریٹائرڈ جنرل نصیراللہ بابر نے فوج سے ان کی ڈیل پر اپنے اختلافات کرکے ظاہر کیا تھے۔

اپنے قتل سے صرف چند روز قبل اپنی ایک ای میل میں انہوں نے امریکہ میں اپنے دوست مارک سیگل کو لکھا: ’اگر میں قتل ہوجاوں تو اس کا ذمہ دار صدر پرویز مشرف کو سمجھا جائے کہ میرے مانگنے پر بھی انہوں نے مطلوبہ سیکیورٹی آلات مہیا نہیں کیے‘ یہ بات مارک سیگل سی این این پر کہہ رہے تھے۔

’رو میرے دیس رو کہ تیری ایک اچھی بیٹی قتل ہوئی۔‘

اسے القائدہ یا طالبان نے مارا یا پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ نے لیکن راولپنڈی سے ہمیشہ مقبول لیڈروں کی لاشیں پاکستان کے عوام کو بھیجی گئی ہیں۔

ہر اخبار میں ان کی تصاویر شائع ہوئی ہیں

وہ ایسے قتل ہوئي ہیں جسے پاکستان میں پاپولر بھٹو قتل ہوتے ہیں۔ جیسے انڈیا میں اندرا گاندھی قتل ہوئيں۔ جیسے امریکہ میں کینیڈی اور یونانی المیائي کرداروں کا انجام۔

لیکن لوگو! بھٹو ققنس تھے جو اپنی راکھ سے بار بار پیدا ہوۓ-‘

’پاکستان نے بینظیر کو قتل کردیا‘ میرے ایک دوست نےمجھ سے کہا۔

مجھے یاد آئی بہت برس بیتے جب کسی نے کہا تھا ’(بڑے) بھٹو کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جاۓ گا۔‘

میں حیران ہوں کہ بھٹو فیملی اور ان کے کروڑ ہا چاہنے والوں کے ساتھ ایسی کربلائوں کے بعد پاکستان کا باقی رہنا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟

اسلامی تاریخ میں خاندان رسول کے بعد وقت کےحکمرانوں کے ہاتھوں شاید اتنے بڑے المیے صرف بھٹو خاندان کے ساتھ ہوئے ہیں۔

لوگ سندھ سے لیکر سری نگر یعنی بدین سے بارہ مولا تک ماتم کناں ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے آپ نے یہ نظارہ یا جمال ناصر کی موت پر دیکھا تھا یا بھٹو کی موت پر۔

راولپنڈی میں بھٹو کی پھانسی کی جگہ پرگھاس اور جرنیلوں کے گولف کورس کی ہریالی کو کتنے مقبول اور محبوب سیاسی لیڈروں کا خون چاہیے ہوگا اے ارض وطن!

سی ون تھرٹی اور فوجی ہلی کاپٹروں میں چکلالہ سے سندہ کی طرف مقبول لیڈروں کی لاشیں کب تک!

بینظیر اپنے چاہنے والوں کو آخری مرتبہ ہاتھ ہلا رہی ہیں

اصل میں بینظیر سر شاہنواز بھٹو کی اس بیٹی کا نام تھا جو وہ جوانی میں ہی جونا گڑھ میں بیماری میں فوت ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بڑی بیٹی کا نام اپنی اس چہیتی بہن کے نام پر رکھا تھا۔

سب سے پہلے بینظیر بھٹو اسوقت میرے جیسے عام لوگوں کی نظر میں آئي تھیں جب وہ اپنے والد وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے شملہ مذاکرات کو جانیوالے وفد میں شامل تھیں۔

اگر کچھ شاعر آنیوالے دنوں کو دیکھ سکتے ہیں تو رئیس امروہی نے بینظیر بھٹو کا مقام تاریخ میں جولائي انیس سو باہہتر میں دیکھ لیا تھا جب مقتول شاعر رئيس امروہی نےقطعہ لکھا تھا:

‘شملہ مذاکرات تھے تاریخ گير بھی
پر عزم اور عظیم بھی لیکن حقیر بھی
آراستہ تھی محفل صدر و وزیر بھی
تاریخ کی نگاہ میں تھی بینظیر بھی-’

لاڑکانہ کے لوگوں کو یہ بھی یاد ہوگا جب وہ اسی راولپنڈی سے اسی دسبمر کی چھٹیوں میں اپنے لاڑکانہ اور نوڈیرو والے گھروں پر آیا کرتی۔

شیریں امیر بیگم بھٹو کی زمینوں پر گھڑ سواری اور جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بہت ہی پرانےذاتی ملازم ‏عثمان سومرو عرف فلیش مین نے مجھے بتایا تھا المرتضی لاڑکانہ کے منی سینیما ہال میں پروجیکٹر پر ذوالفقار علی بھٹو نے بینظیر کو فلم ’چاند اور سورج‘ ساتھ بیٹھ کر دکھائي تھی۔ ‘جب ہم (ملازموں ) نے بینظیر بھٹو کو دیکھا تو ہم انہیں ’سر‘ کہہ کر مخاطب ہو ر ہے تھے۔ ’عثمان نے کہا تھا مجھے یاد ہے جب وہ آکسفورڈ یونیورسٹی ڈبیٹنگ سوسائٹی کی صدر منتخب ہوئی تھیں اور انکا انیس سو ستر کی دہائي کی بیل باٹم اور فلاور چائلڈ ھپی آوٹ لک تھا۔‘

 

عثمان فلیشمین کی ’سر‘ اور بینظیر بھٹو انیس سو چھہتر میں اسلام آباد کی وزرات خارجہ میں بطور آفس بکار خاص بھی مقرر کی گئي تھیں۔

ایک بے فکر لیکن سنجیدہ اور بلیوں سے پیار کرنے والی بینظیر بھٹو کی زندگي کے اسٹیشن پر دکھوں اور حادثوں سے بھری ٹرین اسوقت داخل ہوتی ہے جب وہ جولائی انیس سو ستتر کی گرمیوں کی چھٹیوں پر تھیں اور انکے والد ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا تختہ ان کے ہی ترقی دیے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاءالحق نے الٹ دیا۔ اس دن سے لےکر وہ ’بقول شحضے‘ ریل کی پٹریوں پر ہاتھ پاوں باندہ کر پھینکی جانیوالی ہیروئین تھی اور ہر وقت کا صدر اور چیف آف دی آرمی اسٹاف ایک ولن! ضیاء الحق سے جنرل پرویز مشرف اور مسٹر مشرف سے لیکر لیکر کیانی تک آخری دم تک یہی کہانی رہی۔

میں سوچ رہا ہوں کہ صدیوں پہلے چانڈکا پرگنہ (موجودہ لاڑکانہ ) کا والی نواب ولی محمد چانڈیو جب زمین کا ایک بڑا رقبہ بھٹو قبیلیے کی سنگھار نامی ایک عورت کو عطا کررہا تھا تو سندھ کے ان حسین و ذہین لوگوں کےساتھ زندگی کے الیمے اور میرے دیس کے دکھوں کی سمفنی بھی کوئی ان دیکھا لیکن بےپرواہ موسیقار وہیں ترتیب دے رہا ہوگا۔

’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیحيو‘

 

امداد علی بھٹو، سکندر علی بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو، شاہنواز بھٹو، مرتضی بھٹو اور اب بینظیر!

شاہ لطیف بھٹائی نے کہا تھا ’سامائی تاں سکھ ویا‘ (وہ جب جوان ہوئی تو اسکے سکھ چلے گئے) اور یہی کچھ بینظیر بھٹو کےساتھ ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی ضیاء حکومت کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر قتل کے مقدمے کے خلاف سندھ میں ان کے احتجاجی دورے کے دوران ہالا کے قریب اسے گـرفتار کرکے نظربند کردیا گيا۔ پی پی پی کے جیالے تب اسے ’بے بی‘ کہتے۔ پہلے وہ ستر کلفٹن اور پھر سکھرجیل میں نظربند کی گئيں۔ سکھر جیل میں بھی انہیں قتل کرنےکی سازش کی گئي۔ جب سکھر جیل کے قیدیوں نے دیواروں پر چڑھ کر ان کے حق میں نعرے بازی کی۔

ستر کلفٹن کی دیواروں تھیں اور ان میں تنہا نظربند بینظیر اور ستر کلفٹن کے باہر آئي ایس آئی کے کرنل امتیاز بلا اور اس کے بھوں بھوں کرتے کارندے۔

محھے یاد ہے وہ بینظیر کی نظربندی کے بعد سندھ میں پہلا محرم تھا جب مجلس میں قدیم مرثیہ ’ہائے ہائے رن میں بی بی بانو سر پر خاک بچھاتی ہے۔ پڑھا جاتا تو لوگ اسے علامتی طور پر بینظیر بھٹو کے دکھوں سے جوڑتے۔

 

ستر کلفٹن کی دیواریں، تنہائي اور عجیب ’ہیلیوسینیشن‘ جن میں ان کے کان بری طرح متاثر ہوئے۔ ڈاکٹر امداد علی بلوچ مشہور ماہر ای این ٹی ان کے کانوں کے معالج تھے۔

انیس سو اناسی میں ضیاءالحق نے انہیں نظربندی سے رہا کیا اور انہوں نے بذریعہ خیبر میل کراچی سے لاڑکانہ کا سفر کیا جب تمام راستے ہزاروں لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے چلتی ریل کی پٹریوں پر لیٹ گئے تھے۔ ہر طرف ماتم کرتے انسانی سر اور ہاتھ تھے۔ کالے سندھی اجرک اور کالے چشمے میں ریل کے ڈبے سے ہاتھ ہلاتی تقریر کرتی بینظیر۔ لاڑکانہ پہنچتے ہی فوج نے اسے پھرگرفتار کرلیا۔

جلاوطنی میں لندن جاتی ہوئی بینظیر اور عوام سے پریس کے ذریعے یہ وعدہ کہ میدان میں ملیں گے۔

اپنے جواں سال بھائی شاہنواز کی جنوبی فرانس سے لاش لیکر وطن لوٹتی ہوئی ٹوٹی پھوٹی بینظیر۔ اسے لاڑکانہ میں لاکھوں عوام کی طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی۔

لندن میں ایک چھوٹے سے فلیٹ سے ضیاءالجق کیخلاف چلنے والی تحریک جلتا ہوا احتجاج کرتا ہوا سندھ۔

 

جلاطنی سے واپس آتی ہوئی بنیظیر بھٹو۔ بینظیر کے ساتھ ایک سی ایس ایس خوبرو سندھی افسر کی مجوزہ منگنی اور پھر اس افسر کا خط لکھ کر ضیاءالحق سے اجازت مانگنا جس پر بھٹو خاندان نے رشتہ منسوخ کردیا تھا۔

سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کےگاؤں کے قریب بھی اس کی پیجارو جیپ پر حملہ کرکے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن وہ بچ گئی تھیں کہ دو انتظامی افسران نے انہیں پہلے سے ہی اس سازش سے آگاہ کردیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے روڈ کے ذریعے اپنا سفر منسوخ کردیا لیکن اپنی جیپ کو جانے دیا تھا جہاں اسی جگہ ان کی جیپ پر حملہ ہوا تھا۔

بعد میں سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید نے کہا تھا کہ ان کے ڈاکو مریدوں نے انہیں بتایا تھا کہ بینظیر کی جیپ پر انہوں نے حملہ ملٹری انٹیلجنیس ایجنسی کے ایک میجر عباس کے کہنے پر کیا تھا۔

تب سے لیکر آخر دم تک بینظیر کرنیلوں جرنیلوں اور قاتلوں کی سرزمین پر قاتلانہ حملوں کے نرغے میں رہی۔

کچھ لوگ تو کہتے کہ آصف زرداری سے ان کی شادی بھی ضیاءالحق اور اسکی ملٹری انٹیلیجنس کی ہی سازش تھی۔

لیکن ان کے سسر نے آصف علی زرداری اور بینظیر کی شادی کے بارے میں سوال پر اپنے کسی قریبی دوست سے کہا تھا: ‘کوئی ایسا سندھی وڈیرہ بتائو جسکی عمر پینتیس برس ہو اور وہ اب تک غیر شادی شدہ ہو۔‘

سندھ کی اس ہرنی کو پاکستان کے تمام کتوں نےگھیر گھار کر جلاوطنی سے واپس لاکر چیر پھاڑ دیا۔جرنیل طاقتور اور پاکستان کے عوام لاورث ہیں کہ انہیں ہیلی کاپٹروں میں اپنی محبوب لیڈر کی لاش بھیح دی گئي ہے۔

لیکن وہ سیفٹی والو جو صوبوں اور وفاق کے درمیان بینظیر بھٹو کی شکل میں تھا وہ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ ایک فرد نہیں تھی وہ کتنی بھی کرپٹ تھی، جھوٹی تھی وہ ایک ملکہ تھی۔ اک سوچ تھی۔ ایک عورت تھی۔ اک لیڈر تھی۔ بھٹو خاندان ملک پر واری گیا اور ملک فوجی جرنیلوں اور انکے کاسہ لیسوں پر۔

کیا اسے ان جرنیلوں اور ملاؤں نے ملکر مارا جو کہتے ہیں تیس روز کے بعد عورت کے بیٹھنے سے کرسی نجس ہوجاتی ہے؟

لیکن یہ قتل کی جانیوالی عورت عوام کی شہید ملکہ بن چکی۔

 

 

 

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s